جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن / بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔
Top 59 Mirza Ghalib Quotes
Updated: October 2026
59 quotes
All
Hindi SuvicharUrdu Poetry & AdabChinese ProverbsProverbs About MoneyPersian ProverbsAfrican ProverbsProverbs About WisdomArab ProverbsChanakya QuotesProverbs About SuccessJapanese ProverbsProverbs About Time
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ / ہائے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہونا۔
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا / یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا۔
ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے / میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے۔
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں / کبھی صبا کو، کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں۔
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب / آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی۔
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو / آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی۔
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخیِ غم میں معاف / آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجے / دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا / لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا / آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں / خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں۔
کوئی دن گر زندگانی اور ہے / اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے / ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔
وفاداری بشرطِ استواری ہے اصلِ ایماں / مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑھو برہمن کو۔
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا / رہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو۔
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل / میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے۔
چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے / یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے۔
جان تم پر نثار کرتا ہوں / میں نہیں جانتا دعا کیا ہے۔
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے / جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے۔
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام / ایک مرگِ ناگہانی اور ہے۔
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان / ہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا۔
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا / دل جگر تشنۂ فریاد آیا۔
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا / بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا۔
بے نیازی حد سے گزری، بندہ پرور کب تلک / ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا۔
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے / حورانِ خلد میں تیری صورت مگر ملے۔
ہوں گرمیِ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج / میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں۔
دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں / خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں۔
غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج / شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک۔
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل / جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔
وفا کیسی؟ کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا / تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو۔
دل سے تیری نگاہ جگر تک اتر گئی / دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی۔
دردِ منت کشِ دوا نہ ہوا / میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا / کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا۔
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا / ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے۔
ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے / تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن / دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ خیال اچھا ہے۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا / اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے / بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا / اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے۔
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے / ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں / مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ / پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں / خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں۔
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید / جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔
یہ مسائلِ تصوف، یہ تیرا بیان غالبؔ / تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق / آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی / میرے دکھ کی دوا کرے کوئی۔
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی / کچھ ہماری خبر نہیں آتی۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں / غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے۔
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج / مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں۔
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک / کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔
ایمان مجھے روکے ہے، تو کھینچے ہے مجھے کفر / کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ / شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا / ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں / موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں۔
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے / آخر اس درد کی دوا کیا ہے۔
موت کا ایک دن معین ہے / نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے / ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔
