وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔
30+ Best Ahmad Faraz Quotes & Wishes
Quotes by Ahmad Faraz - memorable lines to copy, reflect on, or share with someone who will appreciate them. Save a favourite or download it as a free image card.
Updated: October 2026
30 quotes
All
Hindi ShayariKabir Ke DoheLife Quotes MegaHappiness Quotes MegaGood Morning For StudentsGood Morning HappyGood Morning InspirationalInspirational Quotes MegaGood Morning MessagesGood Morning New DayGood Morning PositiveGood Morning Quotes For Friends
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں، فرازؔ اب تیرا لہجہ بدل گیا ہے بہت۔
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز، کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے۔
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں، پھر وہی زندگی ہماری ہے۔
محبتوں میں کچھ ایسے بھی حال ہوتے ہیں، خفا ہوں جن سے انہی پہ نثار ہوتے ہیں۔
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا، چاند کی عید ہو گئی ہو گی۔
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے، بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے۔
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے، روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے، تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے۔
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ، تم تو خود سے بھی خوب صورت ہو۔
دل کو تری چاہت پہ بھروسا بھی بہت ہے، اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا۔
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت، مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں۔
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو، بہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو۔
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے، کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں، سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں۔
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے، دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے۔
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں، کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں۔
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے، پھر جو بھی در ملا اسی در کے ہو گئے۔
اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔
چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی، وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے۔
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو، اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں دوستو۔
محفل میں بار بار کسی پر نظر گئی، ہم نے بچائی لاکھ مگر پھر ادھر گئی۔
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا، کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے۔
دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے، تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد، پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد۔
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم، جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں، سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ۔
