مدتوں بعد جو ملا وہ بھی اجنبی نکلا / رشتے وقت کے ساتھ چہرے بدل لیتے ہیں۔
100+ Best Urdu Sad Shayari Quotes & Wishes
Urdu Sad Shayari quotes gather warm, thoughtful lines for readers looking for the right words. Copy a favourite or download it as a free image card to share with someone today.
Updated: October 2026
100 quotes
All
Hindi ShayariSelf-Worth QuotesSelf-Love QuotesBelieve in Yourself QuotesKabir Ke DoheLife Quotes MegaGood Morning For HerWisdom QuotesGood Morning SunshineGood Morning For BossGood Morning For HimGood Morning Texts
دل یہ کہتا ہے کہ اب بس بھی کرو / پر تیری یاد ہے کہ جان نہیں چھوڑتی۔
تم نے جس دل کو توڑا تھا کھلونا سمجھ کے / اس دل میں تمھاری ہی تصویر بسی تھی۔
سوال یہ نہیں کہ وہ چھوڑ گیا کیوں / سوال یہ ہے کہ دل اب تک وہیں کیوں ہے۔
زندگی نے ہمیں اس موڑ پہ لا کھڑا کیا / جہاں رونا بھی چاہیں تو آنسو نہیں آتے۔
بے بسی کا عالم یہ ہے کہ اب / اپنے سائے سے بھی بات کرنے کو دل کرتا ہے۔
وہ جس کے لیے دنیا چھوڑی تھی ہم نے / اسی نے ہم کو دنیا بھر میں رسوا کیا۔
اک عرصہ ہوا دل کو ہنسے ہوئے / اب تو مسکراہٹ بھی اجنبی لگتی ہے۔
دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو روئے بہت / مگر درد نے اترنے سے انکار کر دیا۔
آنکھوں کے سمندر میں ڈوبے ہیں ارمان مرے / کنارے کھڑے لوگ تماشا دیکھتے رہے۔
کاش تیری یاد بھی تجھ جیسی ہوتی / چلی جاتی مجھے چھوڑ کے اک دن۔
ہم نے قسمت سے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا / جو لکھا گیا، اسی میں بسر ہوتی ہے۔
جب اپنوں نے ہی منہ موڑ لیا ہو / غیروں سے شکایت پھر کیا کرنا۔
تری صورت آنکھوں سے مٹتی نہیں ہے / اور سامنے اب تو آتا بھی نہیں ہے۔
ہر شام اک ادھورا سا افسانہ رہ جاتا ہے / دل کہتا کچھ ہے، زبان کچھ نہیں کہتی۔
سوچا تھا نئی دنیا بسائیں گے کہیں جا کے / مگر دل نے کہا، پرانی یادیں ساتھ لے چلو۔
محبت میں ہارا ہوا انسان / دنیا جیت کے بھی خالی ہاتھ رہتا ہے۔
آخری بار جب ملے تھے تو وہ بھی رویا تھا / پھر بھی جانے کی وجہ نہ بتا پایا۔
امیدوں کے چراغ بجھتے رہے اک اک کر کے / دل کی گلی میں اب بس اندھیرا رہ گیا ہے۔
درد بانٹنے سے کم ہوتا ہے سنا تھا / جسے سنایا، اسی نے مذاق اڑا دیا۔
دل میں اک شور ہے، باہر خاموشی ہے / یہی میری زندگی کی مکمل کہانی ہے۔
وہ چلا گیا تو ساتھ نیندیں بھی لے گیا / اب راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتا ہے۔
کسی کے جانے سے زندگی رکتی نہیں مگر / جینے کا وہ انداز نہیں رہتا پھر۔
تمھیں بھولنے کی کوشش میں خود کو بھول بیٹھا / اب آئینہ دیکھوں تو بھی چہرہ اجنبی لگتا ہے۔
اک بار بچھڑ کے جو گیا، پھر نہ ملا / دل اب بھی اسی موڑ پہ کھڑا ہے تنہا۔
رونے سے بھی دل ہلکا نہ ہوا / درد نے جیسے گھر کر لیا ہو سینے میں۔
میری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھنا / جو سہہ لیتے ہیں، وہی سب سے زیادہ ٹوٹتے ہیں۔
بے درد زمانے میں درد بانٹنے والا / ڈھونڈنے نکلا تو خود ہی گم ہو گیا۔
آج پھر دل نے اسے یاد کیا رو رو کے / آج پھر آنکھ کنارے پہ سمندر آیا۔
جو کہا تھا وقت سب ٹھیک کر دے گا / وقت گزر گیا، میں ویسی کا ویسا رہا۔
دل کے ویرانے میں قدم رکھا تھا جس نے / وہی چھوڑ گیا سب سے پہلے تنہا۔
غم کی بارش میں بھیگتے رہے ہم / چھتری جس کے پاس تھی، وہ ساتھ نہ آیا۔
تیری بے وفائی کا گلہ بھی کیا کریں / مقدر ہی میں لکھا تھا بچھڑنا شاید۔
شمع جلی تو پروانے آئے بہت / بجھ گئی تو کوئی پوچھنے نہ آیا۔
مسکرانا سیکھ لیا ہے درد چھپا کے / اب دنیا کہتی ہے، یہ آدمی بہت خوش ہے۔
ہم نے سوچا تھا بھلا دیں گے اسے اک دن / اک دن کہتے کہتے عمر بیت گئی۔
جو شخص میرے درد کی دوا تھا کبھی / آج اسی کے ہاتھ میں خنجر نظر آیا۔
دل نے پھر اسے آواز دی ہے آج / جس نے سنا ہی نہیں کبھی میری پکار۔
ٹوٹے ہوئے دل کی آواز نہیں ہوتی / بس اک ٹیس اٹھتی ہے ہر دھڑکن کے ساتھ۔
یاد اس کی آئے تو رات کٹتی نہیں ہے / اور نہ آئے تو دل چین پاتا نہیں ہے۔
پرانے خط، پرانے عکس، پرانا اک پیام / یہی کمائی ہے میری عمر بھر کی چاہ کی۔
آنکھ نے ضبط کیا، دل نے چیخا بہت / لوگ سمجھے کہ ہم بہت خوش ہیں۔
کسی کو پا کے بھی تنہا رہ جانا / یہ قسمت ہر کسی کے حصے نہیں آتی۔
خواب ٹوٹے، امیدیں ٹوٹیں، دل بھی ٹوٹ گیا / باقی رہ گئی بس سانسوں کی رسمیں۔
تری جدائی نے سکھایا ہے جینا مر مر کے / اب یہ زندگی بھی موت سے کم نہیں لگتی۔
وہ جو کہتا تھا مر مٹیں گے ہم پر / آج غیروں کی محفل میں بیٹھا ملا۔
دل کا خالی پن کوئی بھر نہ سکا / دنیا کی رونقیں بھی بے کار لگیں۔
ہم رونے والوں کو دنیا کمزور سمجھتی ہے / کوئی پوچھے تو سہی، سہا کتنا ہے ہم نے۔
اداسی دل میں اتنی گھر کر گئی ہے / کہ اب خوشی کا پتہ بھی بھول گیا ہوں میں۔
سنا تھا وقت ہر زخم بھر دیتا ہے / میرے زخم پہ وقت بھی رو پڑا۔
جو خواب سجائے تھے آنکھوں میں کبھی / وہ خواب اب راکھ بن کے اڑ گئے ہیں۔
تیری گلی میں اب بھی جاتا ہے یہ دل / مگر قدم اب تیرے در پہ رکتے نہیں ہیں۔
اک مدت ہوئی ہے دل کو پتھر ہوئے / اب کوئی آئے بھی تو فرق نہیں پڑتا۔
بھول جانا اسے مشکل بھی نہیں، آسان بھی نہیں / دل کہتا ہے رہنے دو، آنکھیں کہتی ہیں بس۔
تیری یاد جب آتی ہے تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں / لوگ پوچھتے ہیں، ہم بہانہ بنا لیتے ہیں۔
جو بھی ملا، اس نے اک زخم دیا دل کو / اب تو مرہم سے بھی ڈر لگنے لگا ہے۔
درد اتنا ملا کہ درد سے رشتہ ہو گیا / اب خوشی آئے تو عجیب سی لگتی ہے۔
کاش کوئی سمجھتا دل کی خاموشی کو / ہر ہنسی کے پیچھے اک فریاد ہوتی ہے۔
اس شہر میں ہر شخص مسکراتا ہوا ملا / مگر ہر دل کے اندر اک قبرستان آباد تھا۔
میری ہنسی پہ نہ جا، اس میں درد چھپا ہے / جو سہہ گیا خاموشی سے، وہی قصہ لمبا ہے۔
