کامیابی کی سیڑھی پر پہلا قدم صبر ہے / جلد بازی نے کئی منزلیں برباد کر دیں۔
97+ Best Urdu Shayari Quotes & Wishes
Urdu Shayari quotes gather warm, thoughtful lines for readers looking for the right words. Copy a favourite or download it as a free image card to share with someone today.
Updated: October 2026
97 quotes
All
Hindi ShayariKabir Ke DoheLife Quotes MegaHappiness Quotes MegaGood Morning For StudentsGood Morning HappyGood Morning InspirationalInspirational Quotes MegaGood Morning MessagesGood Morning New DayGood Morning PositiveGood Morning Quotes For Friends
یہ دنیا ہے، یہاں ہر کوئی مصروف ہے خود میں / میری تنہائی کو فرصت سے کوئی سننے نہ آیا۔
رشتے لفظوں سے نہیں، احساس سے بنتے ہیں / ورنہ ہر شخص یہاں باتیں بنانا جانتا ہے۔
ادھورے خواب، ادھوری سی زندگی اپنی / پھر بھی چہرے پہ مسکاں سجائے رکھتے ہیں۔
خواب آنکھوں میں بسے رہتے ہیں برسوں تک / تعبیر کوئی آئے تو زندگیاں بدل جاتی ہیں۔
کتابوں سے جو سیکھا، وہ یاد رہا مجھ کو / جو وقت نے سکھایا، وہ کبھی بھولا نہیں۔
وہی منظر پرانا، وہی چہرے نئے نئے / زندگی ہر روز اک نیا تماشا دکھاتی ہے۔
سوال جتنا بھی مشکل ہو، جواب مل جاتا ہے / بس تلاش سچی ہو اور دل میں یقین رہ جائے۔
بہت آسان ہے کہنا کہ بھلا دوں سب کچھ / دل کے فیصلوں پہ اختیار کہاں ہوتا ہے۔
نہ میں گرا، نہ مری امیدوں کے مینار گرے / پر مجھے گرانے میں کئی لوگ بار بار گرے۔
ہم نے مانگا تھا سکوں، زندگی نے درد دیا / پھر بھی اس زندگی سے کوئی گلہ نہیں ہم کو۔
چراغ بجھ بھی گیا تو روشنی باقی رہی / اچھے لوگوں کی یادیں کبھی مٹا نہیں کرتیں۔
پھول کانٹوں میں کھلا کرتا ہے گلشن کی قسم / اچھے دن مشکلات ہی میں چھپے ہوتے ہیں۔
عمر گزری ہے اسی کھیل میں، ہارے یا جیتے / زندگی ہم سے ہمیشہ نئی شرطیں رکھتی ہے۔
صبح کے اجالے میں رات کا غم بھول جا / کل کی نئی منزل کو آج سے ترتیب دے۔
جو ملا مقدر سے، اس پہ شکر کرنا سیکھ / جو نہ ملا، اسے خوابوں میں بسا کر آگے بڑھ۔
بات چھوٹی سی تھی، افسانہ بنا ڈالا لوگوں نے / خاموشی کو ہماری بے زبانی سمجھ لیا۔
شہر کی بھیڑ میں گم ہو گئی پہچان مری / آئینہ دیکھ کے اب خود کو بھی ڈھونڈا میں نے۔
ہم کو آتا ہے ہر اک حال میں جینے کا ہنر / وقت نے ہم کو جو سکھلایا، کتابوں میں نہیں۔
دوستی وہ نہیں جو لفظوں میں بیاں ہو جائے / دوستی دل کی وہ دھڑکن ہے جو سنائی دے۔
گزر گیا جو زمانہ، وہ لوٹ کر نہ آیا / مگر یہ دل ہے کہ اب تک وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔
ہر قدم پر اک نیا امتحان ہوتا ہے / زندگی نام اسی کشمکشِ جاں کا ہے۔
میں نے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سمیٹا ہے بہت / اب تو آنکھوں کو بھی سونے سے گریزاں دیکھا۔
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی / یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا۔
رات بھر جاگ کے تاروں سے کہی ہے دل کی بات / صبح ہوتے ہی زمانہ نئی باتیں لے کر آیا۔
درد کو ہم نے چھپایا تو زمانہ ہنس پڑا / مسکرائے تو سبھی نے حال پوچھا ہی نہیں۔
اپنے سائے سے بھی اب ڈرنے لگا ہے انسان / روشنی اتنی بڑھی، آنکھیں چندھیا گئیں۔
جو بھی گزرا ہے یہاں سے وہ نشان چھوڑ گیا / زندگی یوں ہی مسافر کی کہانی نکلی۔
ہم نے ہر دور میں انسان کو انسان سمجھا / یہی اک بات زمانے کو گراں گزری ہے۔
سچ کی راہوں پہ چلے ہو تو یہ معلوم رہے / پھول کم ملتے ہیں، کانٹے ہی زیادہ ملتے ہیں۔
لفظ کاغذ پہ اترتے ہیں تو بن جاتے ہیں درد / شاعری ورنہ فقط کھیل تماشا ہوتا۔
زخم دل کے کبھی لفظوں سے بیاں ہوتے نہیں / خاموشی خود ہی فسانے کی زباں ہوتی ہے۔
ہم سفر ہو تو کوئی غم بھی گوارا ہے مجھے / تنہا چلنا ہو تو منزل بھی تھکا دیتی ہے۔
آندھیوں میں بھی چراغ اپنا جلائے رکھنا / رات کتنی ہی طویل ہو، سحر ہوتی ہے۔
دل کی بستی میں اجالا ہے تری یادوں کا / ورنہ اس شہر میں ہر سمت اندھیرا ہوتا۔
راستے خود ہی بتا دیتے ہیں منزل کا پتہ / شرط یہ ہے کہ قدم پہلا اٹھایا جائے۔
چاندنی رات میں تنہائی کا عالم نہ پوچھ / ہر ستارہ تری صورت کا پتہ پوچھتا ہے۔
خواب جو دیکھے تھے آنکھوں نے سحر ہونے تک / راکھ بن کر وہ فضاؤں میں بکھرنے لگے۔
ہم نے سیکھا ہے زمانے سے یہی ایک سبق / جو بھی ملتا ہے یہاں، مل کے بچھڑ جاتا ہے۔
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی ہے / کیوں ترا راستہ دیکھ کر سحر ہوئی۔
وقت کی تیز روانی میں سبھی بہہ گئے / ہم کنارے پہ کھڑے دیکھتے رہ گئے۔
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے، بھر جائے گا / کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا۔
چلنے کا حوصلہ نہیں، رکنا محال کر دیا / عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا۔
تو کسی ریل سی گزرتی ہے / میں کسی پل سا تھر تھراتا ہوں۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا / وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں / صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی / کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی۔
سفر میں دھوپ تو ہوگی، جو چل سکو تو چلو / سبھی ہیں بھیڑ میں، تم بھی نکل سکو تو چلو۔
ہم کو مٹا سکے، یہ زمانے میں دم نہیں / ہم سے زمانہ خود ہے، زمانے سے ہم نہیں۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر / لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے / لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا۔
اصولوں پر جہاں آنچ آئے، ٹکرانا ضروری ہے / جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے۔
وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے / میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا / ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا۔
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔
کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا / کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرہ تیرا۔
یہ دل، یہ پاگل دل میرا، کیوں بجھ گیا آوارگی / اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا آوارگی۔
میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے / سرِ آئینہ میرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے۔
اگر کبھی میری یاد آئے / تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں / کسی ستارے کو دیکھ لینا۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو / میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا۔
