یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر، وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔
Top 38 Faiz Ahmad Faiz Quotes
Updated: October 2026
38 quotes
All
Hindi ShayariKabir Ke DoheLife Quotes MegaGood Morning For NeighboursGood Morning InspirationalGood Morning MessagesPositive Quotes MegaGood Morning SunshineGood Morning For HimGood Morning For StudentsGood Morning For TeachersGood Morning Happy
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو، کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا۔
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے، اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا، وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے، وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے۔
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں، چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں / روئی کی طرح اڑ جائیں گے۔
تم آئے ہو تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں / زمین پر چاند کہاں روز روز اترتا ہے۔
جب تیری سمندر آنکھوں میں / اس شام کا سورج ڈوبے گا۔
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے / لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کا حساب۔
تمھاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں / کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں۔
تیری امید، تیرا انتظار جب سے ہے / نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے۔
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے / جو بھی چل نکلتی ہے، حد سے گزر جاتی ہے۔
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا / وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ دیر و حرم گیا۔
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو / کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے۔
میرا درد نغمۂ بے صدا / میری ذات ذرّۂ بے نشاں۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے / جو عشق کو کام سمجھتے تھے، یا کام سے عاشقی کرتے تھے۔
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے / ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے۔
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی / ہم، جنھیں رسمِ دعا بھول گئے۔
تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی، تیرے جاں نثار چلے گئے / تری رہ میں خاک ہوئے جو وہ بے قرار چلے گئے۔
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے / تو فیضؔ دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں۔
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی / نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی۔
بے دم ہوئے بیمار، دوا کیوں نہیں دیتے / تم اچھے مسیحا ہو، شفا کیوں نہیں دیتے۔
یہ فصل امیدوں کی ہمدم، اس بار بھی غارت جائے گی / سب محنت صبحوں شاموں کی، اب کے بھی اکارت جائے گی۔
دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں / تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب۔
گر بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کیسا / گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔
کرو کج جبیں پہ سر کفن، میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو / کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا۔
شامِ فراق اب نہ پوچھ، آئی اور آ کے ٹل گئی / دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی۔
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات / تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔
رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام / موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام۔
اک فرصتِ گناہ ملی، وہ بھی چار دن / دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے۔
ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے / وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل میں لکھا ہے۔
نہ مدعی نہ شہادت، حساب پاک ہوا / یہ خونِ خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہوا۔
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر / وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے / بول، زباں اب تک تیری ہے۔
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے / وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے۔
