وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے، مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو۔
100+ Best Urdu Poetry Quotes & Wishes
Best Urdu Poetry — handpicked quotes, wishes and messages to copy, share, or download as a free image card on GoodMorningQuotes.
Updated: October 2026
100 quotes
All
Good Morning For HimGood Morning TextsGood Morning InspirationalGood Morning Wishes Images TextGood Morning SunshineGood Morning MessagesGood Morning Quotes For FriendsGood Morning For HerGood Morning PositiveGood Morning BeautifulGood Morning HappyHindi Suvichar
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم، تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ۔
میرؔ صاحب زمانہ نازک ہے، دونوں ہاتھوں سے تھامئے دستار۔
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ۔
مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم، تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا۔
کینہ ہزاروں سال کا آدم سوں چلا آوے ہے انساں کے جگر اندر۔
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانیے گا زندہ، جس کو ہو دین کی پروا نہ خدا کا خوف۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو ورنہ، طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں۔
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا، رنج و راحت فزا نہیں ہوتا۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا۔
کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو، پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر، وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں، نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا، نئی زمیں نیا آسماں نہیں ملتا۔
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو، کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا۔
اشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں، کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں۔
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں، اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں۔
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ، تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے۔
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی، نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزانوں میں۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
حقیقت خرافات میں کھو گئی، یہ امت روایات میں کھو گئی۔
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے، اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام، آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا۔
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی، دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی۔
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
موت کا اک دن معین ہے، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر، کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا، کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج، مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں۔
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے، ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے، اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل، جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے، وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا، وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں، کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں، میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب، موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا۔
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا، کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا۔
مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود، ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے، ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے۔
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام، دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام۔
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں، تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں۔
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی، یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی۔
نہ ہارا ہے عشق نہ دنیا تھکی ہے، دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے۔
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی، یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر تھا ملا ہوا۔
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی، میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی۔
سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے، سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائے۔
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں، یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے۔
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں۔
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا، سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا۔
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا، اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے۔
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو، کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو۔
کل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے، مجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے۔
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل میری کہانی ہے، پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل میری جوانی ہے۔
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا، جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا۔
